Recent Videos
- سائنس - BBC Urdu - ’لیبارٹری میں تیار کیا گیا گردہ کام کر رہا ہے‘ 04.15.2013
- سائنس - BBC Urdu - ایپل کے سربراہ کی چینی صارفین سے معافی 04.02.2013
- سائنس - BBC Urdu - ’آئی پیڈ منی‘ کو ٹریڈ مارک ماننے سے انکار 03.31.2013
- سائنس - BBC Urdu - سعودی عرب:’ٹوئٹر صارفین کی نگرانی کا منصوبہ‘ 03.30.2013
- سائنس - BBC Urdu - متعدد مریضوں کو ’ایڈز، ہیپاٹائٹس کا خطرہ‘ 03.29.2013
آپریشن نہیں، مذا کرات حل ہیں: فیصل کنڈی
- Published on Tuesday, 23 October 2012 09:42
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی آپریشن کی ضرورت نہیں، اور اس بارے میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ فوج اور سول قیادت کی مشاورت سے ہوگا، تاہم حتمی فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق ’یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے، اس کے لیے ماضی کی طرح پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا، تمام سیاسی اتحادی جماعتوں کو آن بورڈ لیا جائے گا، فوجی قیادت کوبھی اعتماد میں لیں گے اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس معاملے پر اتفاق رائے مشکل کام ہے، خاص طور پر جب حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے پارلیمنٹ میں حکومت کی شمالی وزیرستان پر قرار داد کو مسترد کر دیا گیا، تو ان کا کہنا تھا اس میں کچھ ترامیم کی بات کی گئی تھی جسے حکومت کی طرف سے مان لیا گیا اور قرارداد لانے کا مقصد یہ تھا کہ عوام یہ نہ سمجھیں کہ پارلیمنٹ خاموش بیٹھی ہے، نہ کہ یہ کہ قرارداد کے فوراً بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں آپریشن کرنا مشکل فیصلہ ہوتا ہے جس کا شدید ردعمل بھی آسکتا ہے۔
اس سوال پر کہ ردعمل کہاں سے آئے گا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں شدت پسند ہیں، جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس خطے میں غیر ملکی فورسز کی موجودگی نے خودکش حملوں میں اضافہ کیا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہو رہا ہے اسی لیے ہم مذاکرات کے ذریعے پر امن حل چاہتے ہیں۔
"جہاں تک امریکہ کے شور مچانے کی بات ہے تو اس نے افغانستان میں کتنا امن قائم کر دیا ہے جہاں نیٹو فوجیں سالوں سے موجود ہیں، اگر امریکہ پاکستان پر انگلی اٹھاتا ہے تو وہ خود افغانستان میں کتنا کامیاب ہے؟"
فیصل کریم کنڈی
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ حکومت ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے اور امن و امان قائم کرنے میں بے بس لگتی ہے۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کہ وہ ان عناصر سے کیوں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ان کے اپنے حلقۂ انتخاب سمیت قبائلی بیلٹ کو دہشت گرد کارروائیوں کا لانچ پیڈ بنا رکھا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ آپریشن میں بے گناہ شہری مارے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں کہ جب بھی کسی نام نہاد (شدت پسند) کو ہدف بنایا جاتا ہے تو ساتھ بیس تیس بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے بات کی جائے، جس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نرمی برتی جائے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ قبائلی آپس میں لڑیں مگر ہم ایسا نہیں چاہتے۔انھوں نے کہا کہ ہم فوج کو پولیس نہیں بنانا چاہتے، ہماری خواہش ہے کہ ہر ممکن طریقے سے امن ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ کے شور مچانے پر شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں کیا گیا، کیا ملالہ یوسفزئی پر حملہ اس آپریشن کا جواز بن سکتا ہے، اس پر انہوں نے کہا کہ ملالہ پر حملے کا انہیں افسوس ہے مگر وہ واقعہ سوات میں ہوا ہے اس کا اس آپریشن سے تعلق جوڑنا درست نہیں کیونکہ پاکستان میں روزانہ کئی ملالائیں مر رہی ہیں، دوسرے لوگ بھی مر رہے ہیں جن میں فوج اور پولیس شامل ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ جہاں تک امریکہ کے شور مچانے کی بات ہے تو اس نے افغانستان میں کتنا امن قائم کر دیا ہے جہاں نیٹو فوجیں سالوں سے موجود ہیں، اگر امریکہ پاکستان پر انگلی اٹھاتا ہے تو وہ خود افغانستان میں کتنا کامیاب ہے؟
انہوں نے حزب اختلاف مسلم لیگ ن کے اس الزام کو رد کر دیا کہ حکومت آپریشن کا شور مچا کر انتخابات ملتوی کرنا چاہتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں انتخابات کے لیے بالکل تیار ہیں۔ ہاں اگر کوئی تیار نہیں اورایسے بہانے بنائے تو وہ الگ بات ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کے امکانات کو اتفاق رائے پیدا ہونے تک رد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سوات اور جنوبی وزیرستان کی طرح اس معاملے پر بھی حکومت سب سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے گی تاہم اس وقت شمالی وزیرستان میں آپریشن اور اس کے خاطر خواہ نتائج کے حصول کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔
Read more http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121023_pak_military_fata_zz.shtml
Facebook LikeBox

Junaid Qadir a young talented
Junaid Qadir a young talented International Footballer of Lyari, is the son of Late Qadir Bux (Putla), Ex-International Footballer. He is currently giving his
++ readmore
















































FaceBook
Twitter
00923222043933
RSS
Email