Recent Videos
- سائنس - BBC Urdu - ’لیبارٹری میں تیار کیا گیا گردہ کام کر رہا ہے‘ 04.15.2013
- سائنس - BBC Urdu - ایپل کے سربراہ کی چینی صارفین سے معافی 04.02.2013
- سائنس - BBC Urdu - ’آئی پیڈ منی‘ کو ٹریڈ مارک ماننے سے انکار 03.31.2013
- سائنس - BBC Urdu - سعودی عرب:’ٹوئٹر صارفین کی نگرانی کا منصوبہ‘ 03.30.2013
- سائنس - BBC Urdu - متعدد مریضوں کو ’ایڈز، ہیپاٹائٹس کا خطرہ‘ 03.29.2013
’کچھ علاقے سکول جانے کے لیے نہایت خطرناک‘
- Published on Friday, 19 October 2012 04:19
تنظیم نے پاکستانی فوج سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں کو فوجی اڈوں کے طور پر استعمال نہ کریں
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ، اساتذہ، سکولوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔
تنظیم نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں مسلح گروہوں بشمول طالبان، القاعدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بچوں، اساتذہ اور سکولوں پر حملے نہ کریں۔
ہیومن رائٹس واچ کے بقول رواں سال پاکستان میں 96 سکولوں پر حملے کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق جن سکولوں پر حملے کیے گئے ان میں سے زیادہ تر صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع ہیں۔
تنظیم کے مطابق مہمند ایجنسی میں چودہ، صوابی میں تیرہ، چارسدہ میں بارہ اور ضلع مردان میں گیارہ سکولوں پر حملے کیے گئے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان اور سندھ میں بھی سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں ڈائریکٹر علی دیان خان نے کہا ’پاکستان کے کچھ علاقوں کا شمار دنیا میں سکول جانے کے لیے سب سے زیادہ پرخطر علاقوں میں ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں حکام یہ سمجھ لیں کہ صرف مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے اور یہ حملے اسی وقت ختم ہوں گے اگر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔‘
"پاکستان کے کچھ علاقوں کا شمار دنیا میں سکول جانے کے لیے سب سے زیادہ پرخطر علاقوں میں ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں حکام یہ سمجھ لیں کہ صرف مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے اور یہ حملے اسی وقت ختم ہوں گے اگر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔"
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو گولی ماری گئی۔ اس حملے کے بعد پوری دنیا نے اس واقعے کی مذمت کی۔
علی دیان خان نے کہا کہ جس طرح ملالہ کے وقعے پر عالمی مذمت ہوئی اسی طرح ہر اس واقعے پر مذمت ہونی چاہیے جس میں کسی طالب علم یا سکول کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
’وہ سکول جو اب کئی سالوں سے ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں ان کو دیکھ کر حکومت کے عزم کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی پرعزم ہے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے۔‘
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسا نظام بنانا چاہیے کہ جہاں بھی کوئی سکول نشانہ بنے اس کی فوری تعمیر کی جائے۔
ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی فوج سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں کو فوجی اڈوں کے طور پر استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان سکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
علت دیان خان نے کہا ’یہ ایک لڑکی کو گولی مارنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ بحران پورے پاکستان کے تعلیمی نطام کا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان اس بات کو سمجھے کہ جو لوگ طلبہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ پاکستان کو مستقبل سے محروم کرنا چاہتےہیں۔‘
Read more http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121019_hrw_schools_pakistan_rh.shtml
Facebook LikeBox

Junaid Qadir a young talented
Junaid Qadir a young talented International Footballer of Lyari, is the son of Late Qadir Bux (Putla), Ex-International Footballer. He is currently giving his
++ readmore
















































FaceBook
Twitter
00923222043933
RSS
Email